News

وزیراعظم پشاور پہنچ گئے، گورنر ہاؤس میں اہم اجلاس کی صدارت کرینگے

وزیر اعظم پشاور پہنچ گئے جہاں وہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرینگے۔  وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراطلاعات عطا تارڑ بھی پشاور پہنچے ہیں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوگا جہاں صوبے کی سیاسی صورتحال اور حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا […]

وزیراعظم پشاور پہنچ گئے، گورنر ہاؤس میں اہم اجلاس کی صدارت کرینگے Read More »

چین کے تاریخی لانگ مارچ کی کامیابی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد لانگ مارچ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اتحاد کی علامت ہے ، چینی سفارتکار اسلام آ باد () چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، اسلام آباد کے اشتراک سے ’’ین آن جرنل: پہاڑوں اور سمندروں سے ماورا مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں چین کے تاریخی لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال مکمل ہونے کے تناظر میں اس کی تاریخی اہمیت، جذبۂ استقامت اور موجودہ دور میں اس کی معنویت کو اجاگر کیا گیا۔ چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چن پھنگ تقریب کے مہمانِ اعزاز تھے، جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے اپنے تحریری پیغام میں موضوع سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ تاریخی ورثے کا تحفظ صرف تاریخی مقامات اور اشیاء کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ ان تجربات، کہانیوں اور اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے جو قوموں کی شناخت تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے لانگ مارچ جیسے تاریخی واقعے کو دستاویزی فلموں کے ذریعے اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ابلاغی کاوشیں تاریخ اور اس سے وابستہ عزم، قربانی اور استقامت کے جذبے کو نسلِ نو تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔چینی ثقافتی قونصلر چن پھنگ نے اپنے خطاب میں لانگ مارچ کو قربانی، استقامت اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ نے چینی انقلاب کی سمت متعین کرنے اور بالآخر اس کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس تاریخی سفر کے جذبے کو مشکلات کا سامنا کرنے، اجتماعی عزم برقرار رکھنے اور مشترکہ مقصد کے لیے ثابت قدم رہنے کی مثال قرار دیا۔چن پھنگ نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی علامت شاہراہِ قراقرم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تعمیر دونوں ممالک کی مشترکہ جدوجہد، قربانیوں اور باہمی تعاون کی عکاس ہے۔ انہوں نے شاہراہ کی تعمیر کے دوران چینی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاک چین دوستی اور باہمی اعتماد کی نمایاں علامت قرار دیا۔امورِ چین کے ماہر و سینئر تجزیہ کار شکیل احمد رامے نے لانگ مارچ کے تاریخی راستوں اور مقامات کے اپنے حالیہ دورے کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت، شناخت اور نظریاتی وابستگی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا جذبہ قربانی، بے خوفی، دیانت داری اور مشکلات کے باوجود اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنے کی علامت ہے۔ انہوں نے اس تاریخی ورثے کو صدر شی جن پھنگ کے وژن کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا، جس کے تحت چین اپنی تاریخی جدوجہد سے رہنمائی لیتے ہوئے قومی ترقی اور تجدید کے سفر کو آگے بڑھا رہا ہے۔سیمینار میں لانگ مارچ کے تاریخی راستوں اور مقامات پر مبنی ایک خصوصی ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئی، جس میں چین کی تاریخ، چینی قوم کے عزم و حوصلے اور اس تاریخی سفر سے وابستہ جدوجہد کو نمایاں کیا گیا۔ ڈاکیومنٹری میں لانگ مارچ کے جذبے کو جدید چین کے ترقیاتی سفر اور صدر شی جن پھنگ کے وژن سے مربوط کیا گیا، جس میں قومی تجدید، ترقی کے تسلسل اور ہر نسل کی جانب سے اپنے دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے تصور کو اہمیت حاصل ہے۔ماہرِ تعلیم اور سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسان داؤد بٹ نے چین کے ترقیاتی وژن 2049 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ سے وابستہ عزم، استقامت اور اجتماعی جدوجہد کی اقدار آج بھی چین کے ترقیاتی سفر کو سمجھنے میں اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے صدر شی جن پھنگ کے پائیدار ترقی اور قومی تجدید کے وژن، پالیسیوں کے تسلسل، مؤثر حکمرانی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل المدتی اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد اور بدلتے حالات کے مطابق فیصلے کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی احترام، نوجوانوں کے روابط، چینی زبان سیکھنے اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینا دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ لانگ مارچ کا جذبہ صرف چین کی تاریخ کا اہم باب نہیں، بلکہ استقامت، نظم و ضبط، دیانت داری، خود انحصاری اور عوام کی خدمت جیسی اقدار کا مظہر بھی ہے۔ مقررین نے اس تاریخی ورثے کو صدر شی جن پھنگ کے وژن، جدید چین کی ترقی اور قومی تجدید کے تناظر میں سمجھنے اور دستاویزی فلموں و ثقافتی تبادلوں کے ذریعے پاک چین دوستی کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

Date . 21/Oct/2026

چین کے تاریخی لانگ مارچ کی کامیابی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد لانگ مارچ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اتحاد کی علامت ہے ، چینی سفارتکار اسلام آ باد () چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، اسلام آباد کے اشتراک سے ’’ین آن جرنل: پہاڑوں اور سمندروں سے ماورا مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں چین کے تاریخی لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال مکمل ہونے کے تناظر میں اس کی تاریخی اہمیت، جذبۂ استقامت اور موجودہ دور میں اس کی معنویت کو اجاگر کیا گیا۔ چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چن پھنگ تقریب کے مہمانِ اعزاز تھے، جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے اپنے تحریری پیغام میں موضوع سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ تاریخی ورثے کا تحفظ صرف تاریخی مقامات اور اشیاء کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ ان تجربات، کہانیوں اور اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے جو قوموں کی شناخت تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے لانگ مارچ جیسے تاریخی واقعے کو دستاویزی فلموں کے ذریعے اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ابلاغی کاوشیں تاریخ اور اس سے وابستہ عزم، قربانی اور استقامت کے جذبے کو نسلِ نو تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔چینی ثقافتی قونصلر چن پھنگ نے اپنے خطاب میں لانگ مارچ کو قربانی، استقامت اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ نے چینی انقلاب کی سمت متعین کرنے اور بالآخر اس کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس تاریخی سفر کے جذبے کو مشکلات کا سامنا کرنے، اجتماعی عزم برقرار رکھنے اور مشترکہ مقصد کے لیے ثابت قدم رہنے کی مثال قرار دیا۔چن پھنگ نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی علامت شاہراہِ قراقرم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تعمیر دونوں ممالک کی مشترکہ جدوجہد، قربانیوں اور باہمی تعاون کی عکاس ہے۔ انہوں نے شاہراہ کی تعمیر کے دوران چینی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاک چین دوستی اور باہمی اعتماد کی نمایاں علامت قرار دیا۔امورِ چین کے ماہر و سینئر تجزیہ کار شکیل احمد رامے نے لانگ مارچ کے تاریخی راستوں اور مقامات کے اپنے حالیہ دورے کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت، شناخت اور نظریاتی وابستگی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا جذبہ قربانی، بے خوفی، دیانت داری اور مشکلات کے باوجود اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنے کی علامت ہے۔ انہوں نے اس تاریخی ورثے کو صدر شی جن پھنگ کے وژن کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا، جس کے تحت چین اپنی تاریخی جدوجہد سے رہنمائی لیتے ہوئے قومی ترقی اور تجدید کے سفر کو آگے بڑھا رہا ہے۔سیمینار میں لانگ مارچ کے تاریخی راستوں اور مقامات پر مبنی ایک خصوصی ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئی، جس میں چین کی تاریخ، چینی قوم کے عزم و حوصلے اور اس تاریخی سفر سے وابستہ جدوجہد کو نمایاں کیا گیا۔ ڈاکیومنٹری میں لانگ مارچ کے جذبے کو جدید چین کے ترقیاتی سفر اور صدر شی جن پھنگ کے وژن سے مربوط کیا گیا، جس میں قومی تجدید، ترقی کے تسلسل اور ہر نسل کی جانب سے اپنے دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے تصور کو اہمیت حاصل ہے۔ماہرِ تعلیم اور سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسان داؤد بٹ نے چین کے ترقیاتی وژن 2049 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ سے وابستہ عزم، استقامت اور اجتماعی جدوجہد کی اقدار آج بھی چین کے ترقیاتی سفر کو سمجھنے میں اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے صدر شی جن پھنگ کے پائیدار ترقی اور قومی تجدید کے وژن، پالیسیوں کے تسلسل، مؤثر حکمرانی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل المدتی اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد اور بدلتے حالات کے مطابق فیصلے کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی احترام، نوجوانوں کے روابط، چینی زبان سیکھنے اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینا دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ لانگ مارچ کا جذبہ صرف چین کی تاریخ کا اہم باب نہیں، بلکہ استقامت، نظم و ضبط، دیانت داری، خود انحصاری اور عوام کی خدمت جیسی اقدار کا مظہر بھی ہے۔ مقررین نے اس تاریخی ورثے کو صدر شی جن پھنگ کے وژن، جدید چین کی ترقی اور قومی تجدید کے تناظر میں سمجھنے اور دستاویزی فلموں و ثقافتی تبادلوں کے ذریعے پاک چین دوستی کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ Read More »

چینی وزیر خا رجہ گلوبل گورننس فورم 2026 سے کلیدی خطاب کریں گےبیجنگ () کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای گلوبل گورننس فورم 2026 (شیونگ آن) کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور کلیدی خطاب کریں گے۔بدھ کے روز چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بتایا کہ وانگ ای فورم میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر مزید مؤثر عمل درآمد اور زیادہ منصفانہ و مساوی عالمی نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات پیش کریں گے۔ ترجمان کے مطابق، وانگ ای فورم میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

Date . 21/Oct/2026

چینی وزیر خا رجہ گلوبل گورننس فورم 2026 سے کلیدی خطاب کریں گےبیجنگ () کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای گلوبل گورننس فورم 2026 (شیونگ آن) کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور کلیدی خطاب کریں گے۔بدھ کے روز چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بتایا کہ وانگ ای فورم میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر مزید مؤثر عمل درآمد اور زیادہ منصفانہ و مساوی عالمی نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات پیش کریں گے۔ ترجمان کے مطابق، وانگ ای فورم میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ Read More »

چینی وزیر خا رجہ گلوبل گورننس فورم 2026 سے کلیدی خطاب کریں گےبیجنگ () کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای گلوبل گورننس فورم 2026 (شیونگ آن) کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور کلیدی خطاب کریں گے۔بدھ کے روز چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بتایا کہ وانگ ای فورم میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر مزید مؤثر عمل درآمد اور زیادہ منصفانہ و مساوی عالمی نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات پیش کریں گے۔ ترجمان کے مطابق، وانگ ای فورم میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

Date . 21/Oct/2026

چینی وزیر خا رجہ گلوبل گورننس فورم 2026 سے کلیدی خطاب کریں گےبیجنگ () کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای گلوبل گورننس فورم 2026 (شیونگ آن) کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور کلیدی خطاب کریں گے۔بدھ کے روز چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بتایا کہ وانگ ای فورم میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر مزید مؤثر عمل درآمد اور زیادہ منصفانہ و مساوی عالمی نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات پیش کریں گے۔ ترجمان کے مطابق، وانگ ای فورم میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ Read More »

چین نے کاربن اخراج کے تجارتی حجم میں ایک ارب ٹن کی حد عبور کر لیبیجنگ () چین کے نائب وزیر برائے حیاتیات و ماحولیات لی گاؤ نے ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک میں کاربن اخراج کی تجارت کا نظام تیزی سے ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔حال ہی میں چین کی قومی کاربن اخراج تجارتی منڈی میں لین دین کا مجموعی حجم ایک ارب ٹن سے تجاوز کر گیا۔ قومی کاربن مارکیٹ کے آغاز کے پانچ سال سے زائد عرصے میں چین نے ابتدا سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی کاربن اخراج تجارتی منڈی قائم کر لی ہے۔اس نظام کے تحت تقریباً 8.3 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، جو ملک میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مجموعی اخراج کا 65 فیصد سے زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق، کاربن اخراج کی تجارت کا نظام اب تیز رفتار ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

Date . 21/Oct/2026

چین نے کاربن اخراج کے تجارتی حجم میں ایک ارب ٹن کی حد عبور کر لیبیجنگ () چین کے نائب وزیر برائے حیاتیات و ماحولیات لی گاؤ نے ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک میں کاربن اخراج کی تجارت کا نظام تیزی سے ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔حال ہی میں چین کی قومی کاربن اخراج تجارتی منڈی میں لین دین کا مجموعی حجم ایک ارب ٹن سے تجاوز کر گیا۔ قومی کاربن مارکیٹ کے آغاز کے پانچ سال سے زائد عرصے میں چین نے ابتدا سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی کاربن اخراج تجارتی منڈی قائم کر لی ہے۔اس نظام کے تحت تقریباً 8.3 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، جو ملک میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مجموعی اخراج کا 65 فیصد سے زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق، کاربن اخراج کی تجارت کا نظام اب تیز رفتار ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ Read More »

چین نے کاربن اخراج کے تجارتی حجم میں ایک ارب ٹن کی حد عبور کر لیبیجنگ () چین کے نائب وزیر برائے حیاتیات و ماحولیات لی گاؤ نے ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک میں کاربن اخراج کی تجارت کا نظام تیزی سے ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔حال ہی میں چین کی قومی کاربن اخراج تجارتی منڈی میں لین دین کا مجموعی حجم ایک ارب ٹن سے تجاوز کر گیا۔ قومی کاربن مارکیٹ کے آغاز کے پانچ سال سے زائد عرصے میں چین نے ابتدا سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی کاربن اخراج تجارتی منڈی قائم کر لی ہے۔اس نظام کے تحت تقریباً 8.3 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، جو ملک میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مجموعی اخراج کا 65 فیصد سے زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق، کاربن اخراج کی تجارت کا نظام اب تیز رفتار ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

Date . 21/Oct/2026

چین نے کاربن اخراج کے تجارتی حجم میں ایک ارب ٹن کی حد عبور کر لیبیجنگ () چین کے نائب وزیر برائے حیاتیات و ماحولیات لی گاؤ نے ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک میں کاربن اخراج کی تجارت کا نظام تیزی سے ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔حال ہی میں چین کی قومی کاربن اخراج تجارتی منڈی میں لین دین کا مجموعی حجم ایک ارب ٹن سے تجاوز کر گیا۔ قومی کاربن مارکیٹ کے آغاز کے پانچ سال سے زائد عرصے میں چین نے ابتدا سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی کاربن اخراج تجارتی منڈی قائم کر لی ہے۔اس نظام کے تحت تقریباً 8.3 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، جو ملک میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مجموعی اخراج کا 65 فیصد سے زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق، کاربن اخراج کی تجارت کا نظام اب تیز رفتار ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ Read More »

چین کا 2030 تک قومی سطح کی 500 زیرو کاربن فیکٹریاں اور زیرو کاربن کمپیوٹنگ سہولیات قائم کرنے کا منصوبہبیجنگ () چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حال ہی میں “صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کاربن اخراج پر دوہرے کنٹرول کا نظام تیز رفتاری سے قائم کرنے کا عملی منصوبہ (2026 تا 2030)” جاری کیا ہے، جس میں ان شعبوں میں کاربن اخراج پر کنٹرول کے حوالے سے اہم اہداف اور ترجیحی اقدامات متعین کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق، 2030 تک قومی سطح پر تقریباً 500 زیرو کاربن فیکٹریاں اور زیرو کاربن کمپیوٹنگ سہولیات قائم کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ، 2025 کے مقابلے میں نامزد سائز سے بالا صنعتی اداروں کی فی یونٹ اضافی قدر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 17 فیصد سے زیادہ اور توانائی کی کھپت میں 10 فیصد سے زیادہ کمی لانے کا منصوبہ ہے۔

Date . 21/Oct/2026

چین کا 2030 تک قومی سطح کی 500 زیرو کاربن فیکٹریاں اور زیرو کاربن کمپیوٹنگ سہولیات قائم کرنے کا منصوبہبیجنگ () چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حال ہی میں “صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کاربن اخراج پر دوہرے کنٹرول کا نظام تیز رفتاری سے قائم کرنے کا عملی منصوبہ (2026 تا 2030)” جاری کیا ہے، جس میں ان شعبوں میں کاربن اخراج پر کنٹرول کے حوالے سے اہم اہداف اور ترجیحی اقدامات متعین کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق، 2030 تک قومی سطح پر تقریباً 500 زیرو کاربن فیکٹریاں اور زیرو کاربن کمپیوٹنگ سہولیات قائم کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ، 2025 کے مقابلے میں نامزد سائز سے بالا صنعتی اداروں کی فی یونٹ اضافی قدر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 17 فیصد سے زیادہ اور توانائی کی کھپت میں 10 فیصد سے زیادہ کمی لانے کا منصوبہ ہے۔ Read More »

عالمی مالیاتی فنڈ کی ایشیائی معیشت کی مضبوطی اور توانائی کی تعریف، مستقبل کے امکانات روشن قراربینکاک () بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے 2026 کے سالانہ خزاں اجلاس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہوئے۔ اجلاس کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شعبہ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سرینیواسن نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایشیائی معیشت مضبوط ہے، مختلف دباؤ اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر پالیسیوں پر درست سمت میں عمل درآمد جاری رہا تو مستقبل میں بھی اس کی توانائی اور ترقی کی رفتار برقرار رہ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی ممالک نے مسلسل غیر معمولی لچک اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور مختلف نوعیت کے دھچکوں سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ کھلے پن کے حامل خطوں میں شامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایشیائی ممالک نے تجارت کے لیے اپنی منڈیوں کو کھولنے سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور یہی عنصر آج بھی خطے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے خیال میں اگر پالیسیوں پر مناسب انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو ایشیائی معیشت مستقبل میں بھی مضبوط، متحرک اور توانا رہ سکتی ہے۔

Date . 21/Oct/2026

عالمی مالیاتی فنڈ کی ایشیائی معیشت کی مضبوطی اور توانائی کی تعریف، مستقبل کے امکانات روشن قراربینکاک () بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے 2026 کے سالانہ خزاں اجلاس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہوئے۔ اجلاس کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شعبہ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سرینیواسن نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایشیائی معیشت مضبوط ہے، مختلف دباؤ اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر پالیسیوں پر درست سمت میں عمل درآمد جاری رہا تو مستقبل میں بھی اس کی توانائی اور ترقی کی رفتار برقرار رہ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی ممالک نے مسلسل غیر معمولی لچک اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور مختلف نوعیت کے دھچکوں سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ کھلے پن کے حامل خطوں میں شامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایشیائی ممالک نے تجارت کے لیے اپنی منڈیوں کو کھولنے سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور یہی عنصر آج بھی خطے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے خیال میں اگر پالیسیوں پر مناسب انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو ایشیائی معیشت مستقبل میں بھی مضبوط، متحرک اور توانا رہ سکتی ہے۔ Read More »

چین۔روس جامع شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، چینی وزیراعظمبیجنگ ()چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین کے ہمراہ چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس نے مل کر آگے بڑھتے ہوئے اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے متحرک اور مضبوط تعاون کے ذریعے بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع تر اور پیش رفت زیادہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت نئے عہد میں چین۔روس جامع تزویراتی شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے اور تیز رفتار ترقی کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، روس کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فائدہ مند تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کی ترقی اور قومی نشاۃِ ثانیہ میں مدد ملے اور عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ رواں سال روس۔چین اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ ہے۔ نئے عہد میں روس۔چین جامع تزویراتی شراکت داری تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی عوامل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات کے حصول اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے” چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اقتصادی و تجارتی امور، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔

Date . 21/Oct/2026

چین۔روس جامع شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، چینی وزیراعظمبیجنگ ()چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین کے ہمراہ چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس نے مل کر آگے بڑھتے ہوئے اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے متحرک اور مضبوط تعاون کے ذریعے بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع تر اور پیش رفت زیادہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت نئے عہد میں چین۔روس جامع تزویراتی شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے اور تیز رفتار ترقی کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، روس کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فائدہ مند تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کی ترقی اور قومی نشاۃِ ثانیہ میں مدد ملے اور عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ رواں سال روس۔چین اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ ہے۔ نئے عہد میں روس۔چین جامع تزویراتی شراکت داری تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی عوامل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات کے حصول اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے” چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اقتصادی و تجارتی امور، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔ Read More »

لانگ مارچ کا جذبہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی کامیابی کا راز ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ ()1936 میں امریکی صحافی ایڈگر اسنو نے اپنی کتاب “ریڈ اسٹار اوور چائنا” کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کو دنیا سے متعارف کرایا تھا۔ لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال بعد بھی دنیا یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے کہ سی پی سی بڑے اہداف حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے 41 ممالک کے 12 ہزار افراد کے درمیان کرائے گئے سروے کے مطابق، سی پی سی کے بارے میں سب سے عام تاثر مضبوط اور باصلاحیت قیادت کا ہے۔ اس کے بعد عالمی استحکام کے لیے مثبت کردار اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کی نمائندگی کو اہم قرار دیا گیا۔لانگ مارچ کا بنیادی سبق پختہ یقین اور عوامی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ سروے میں شامل 41 میں سے 30 ممالک کے جواب دہندگان کا خیال ہے کہ سی پی سی مغربی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ملک کے مجموعی اور طویل مدتی مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتی ہے۔ کینیا، نائجیریا، گھانا، انڈونیشیا اور پاکستان میں نصف سے زیادہ افراد نے اس رائے سے اتفاق کیا۔1935 میں ہونے والی زون ای میٹنگ نے سی پی سی کو عملی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور خود اصلاحی کا راستہ اختیار کرنے میں مدد دی۔ سروے کے مطابق، گلوبل ساؤتھ کے 63.7 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ سی پی سی کا طرزِ حکمرانی مغربی سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ کینیا، پاکستان، بھارت، نائجیریا، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا میں یہ شرح 70 فیصد سے زیادہ رہی۔سروے میں شامل دنیا بھر کے 63.9 فیصد افراد نے چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سی پی سی کی قیادت سے جوڑا، جبکہ گلوبل ساؤتھ میں یہ شرح 71.4 فیصد تھی۔ مضبوط، دوراندیش اور مؤثر قیادت سی پی سی کے بارے میں نمایاں تاثرات میں شامل رہی۔لانگ مارچ کا تاریخی تجربہ عزم، استقامت، عملی قیادت اور اجتماعی مقصد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جسے چین کی بعد کی ترقی کی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

Date . 21/Oct/2026

لانگ مارچ کا جذبہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی کامیابی کا راز ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ ()1936 میں امریکی صحافی ایڈگر اسنو نے اپنی کتاب “ریڈ اسٹار اوور چائنا” کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کو دنیا سے متعارف کرایا تھا۔ لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال بعد بھی دنیا یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے کہ سی پی سی بڑے اہداف حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے 41 ممالک کے 12 ہزار افراد کے درمیان کرائے گئے سروے کے مطابق، سی پی سی کے بارے میں سب سے عام تاثر مضبوط اور باصلاحیت قیادت کا ہے۔ اس کے بعد عالمی استحکام کے لیے مثبت کردار اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کی نمائندگی کو اہم قرار دیا گیا۔لانگ مارچ کا بنیادی سبق پختہ یقین اور عوامی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ سروے میں شامل 41 میں سے 30 ممالک کے جواب دہندگان کا خیال ہے کہ سی پی سی مغربی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ملک کے مجموعی اور طویل مدتی مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتی ہے۔ کینیا، نائجیریا، گھانا، انڈونیشیا اور پاکستان میں نصف سے زیادہ افراد نے اس رائے سے اتفاق کیا۔1935 میں ہونے والی زون ای میٹنگ نے سی پی سی کو عملی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور خود اصلاحی کا راستہ اختیار کرنے میں مدد دی۔ سروے کے مطابق، گلوبل ساؤتھ کے 63.7 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ سی پی سی کا طرزِ حکمرانی مغربی سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ کینیا، پاکستان، بھارت، نائجیریا، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا میں یہ شرح 70 فیصد سے زیادہ رہی۔سروے میں شامل دنیا بھر کے 63.9 فیصد افراد نے چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سی پی سی کی قیادت سے جوڑا، جبکہ گلوبل ساؤتھ میں یہ شرح 71.4 فیصد تھی۔ مضبوط، دوراندیش اور مؤثر قیادت سی پی سی کے بارے میں نمایاں تاثرات میں شامل رہی۔لانگ مارچ کا تاریخی تجربہ عزم، استقامت، عملی قیادت اور اجتماعی مقصد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جسے چین کی بعد کی ترقی کی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ Read More »

Scroll to Top