News

عالمی مالیاتی فنڈ کی ایشیائی معیشت کی مضبوطی اور توانائی کی تعریف، مستقبل کے امکانات روشن قراربینکاک () بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے 2026 کے سالانہ خزاں اجلاس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہوئے۔ اجلاس کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شعبہ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سرینیواسن نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایشیائی معیشت مضبوط ہے، مختلف دباؤ اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر پالیسیوں پر درست سمت میں عمل درآمد جاری رہا تو مستقبل میں بھی اس کی توانائی اور ترقی کی رفتار برقرار رہ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی ممالک نے مسلسل غیر معمولی لچک اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور مختلف نوعیت کے دھچکوں سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ کھلے پن کے حامل خطوں میں شامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایشیائی ممالک نے تجارت کے لیے اپنی منڈیوں کو کھولنے سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور یہی عنصر آج بھی خطے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے خیال میں اگر پالیسیوں پر مناسب انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو ایشیائی معیشت مستقبل میں بھی مضبوط، متحرک اور توانا رہ سکتی ہے۔

Date . 21/Oct/2026

عالمی مالیاتی فنڈ کی ایشیائی معیشت کی مضبوطی اور توانائی کی تعریف، مستقبل کے امکانات روشن قراربینکاک () بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے 2026 کے سالانہ خزاں اجلاس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہوئے۔ اجلاس کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شعبہ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سرینیواسن نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایشیائی معیشت مضبوط ہے، مختلف دباؤ اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر پالیسیوں پر درست سمت میں عمل درآمد جاری رہا تو مستقبل میں بھی اس کی توانائی اور ترقی کی رفتار برقرار رہ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی ممالک نے مسلسل غیر معمولی لچک اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور مختلف نوعیت کے دھچکوں سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ کھلے پن کے حامل خطوں میں شامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایشیائی ممالک نے تجارت کے لیے اپنی منڈیوں کو کھولنے سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور یہی عنصر آج بھی خطے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے خیال میں اگر پالیسیوں پر مناسب انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو ایشیائی معیشت مستقبل میں بھی مضبوط، متحرک اور توانا رہ سکتی ہے۔ Read More »

چین۔روس جامع شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، چینی وزیراعظمبیجنگ ()چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین کے ہمراہ چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس نے مل کر آگے بڑھتے ہوئے اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے متحرک اور مضبوط تعاون کے ذریعے بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع تر اور پیش رفت زیادہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت نئے عہد میں چین۔روس جامع تزویراتی شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے اور تیز رفتار ترقی کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، روس کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فائدہ مند تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کی ترقی اور قومی نشاۃِ ثانیہ میں مدد ملے اور عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ رواں سال روس۔چین اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ ہے۔ نئے عہد میں روس۔چین جامع تزویراتی شراکت داری تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی عوامل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات کے حصول اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے” چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اقتصادی و تجارتی امور، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔

Date . 21/Oct/2026

چین۔روس جامع شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، چینی وزیراعظمبیجنگ ()چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین کے ہمراہ چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس نے مل کر آگے بڑھتے ہوئے اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے متحرک اور مضبوط تعاون کے ذریعے بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع تر اور پیش رفت زیادہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت نئے عہد میں چین۔روس جامع تزویراتی شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے اور تیز رفتار ترقی کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، روس کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فائدہ مند تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کی ترقی اور قومی نشاۃِ ثانیہ میں مدد ملے اور عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ رواں سال روس۔چین اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ ہے۔ نئے عہد میں روس۔چین جامع تزویراتی شراکت داری تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی عوامل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات کے حصول اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے” چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اقتصادی و تجارتی امور، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔ Read More »

لانگ مارچ کا جذبہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی کامیابی کا راز ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ ()1936 میں امریکی صحافی ایڈگر اسنو نے اپنی کتاب “ریڈ اسٹار اوور چائنا” کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کو دنیا سے متعارف کرایا تھا۔ لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال بعد بھی دنیا یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے کہ سی پی سی بڑے اہداف حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے 41 ممالک کے 12 ہزار افراد کے درمیان کرائے گئے سروے کے مطابق، سی پی سی کے بارے میں سب سے عام تاثر مضبوط اور باصلاحیت قیادت کا ہے۔ اس کے بعد عالمی استحکام کے لیے مثبت کردار اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کی نمائندگی کو اہم قرار دیا گیا۔لانگ مارچ کا بنیادی سبق پختہ یقین اور عوامی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ سروے میں شامل 41 میں سے 30 ممالک کے جواب دہندگان کا خیال ہے کہ سی پی سی مغربی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ملک کے مجموعی اور طویل مدتی مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتی ہے۔ کینیا، نائجیریا، گھانا، انڈونیشیا اور پاکستان میں نصف سے زیادہ افراد نے اس رائے سے اتفاق کیا۔1935 میں ہونے والی زون ای میٹنگ نے سی پی سی کو عملی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور خود اصلاحی کا راستہ اختیار کرنے میں مدد دی۔ سروے کے مطابق، گلوبل ساؤتھ کے 63.7 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ سی پی سی کا طرزِ حکمرانی مغربی سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ کینیا، پاکستان، بھارت، نائجیریا، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا میں یہ شرح 70 فیصد سے زیادہ رہی۔سروے میں شامل دنیا بھر کے 63.9 فیصد افراد نے چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سی پی سی کی قیادت سے جوڑا، جبکہ گلوبل ساؤتھ میں یہ شرح 71.4 فیصد تھی۔ مضبوط، دوراندیش اور مؤثر قیادت سی پی سی کے بارے میں نمایاں تاثرات میں شامل رہی۔لانگ مارچ کا تاریخی تجربہ عزم، استقامت، عملی قیادت اور اجتماعی مقصد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جسے چین کی بعد کی ترقی کی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

Date . 21/Oct/2026

لانگ مارچ کا جذبہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی کامیابی کا راز ہے ، عالمی سروے نتائجبیجنگ ()1936 میں امریکی صحافی ایڈگر اسنو نے اپنی کتاب “ریڈ اسٹار اوور چائنا” کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کو دنیا سے متعارف کرایا تھا۔ لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال بعد بھی دنیا یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے کہ سی پی سی بڑے اہداف حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے 41 ممالک کے 12 ہزار افراد کے درمیان کرائے گئے سروے کے مطابق، سی پی سی کے بارے میں سب سے عام تاثر مضبوط اور باصلاحیت قیادت کا ہے۔ اس کے بعد عالمی استحکام کے لیے مثبت کردار اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کی نمائندگی کو اہم قرار دیا گیا۔لانگ مارچ کا بنیادی سبق پختہ یقین اور عوامی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ سروے میں شامل 41 میں سے 30 ممالک کے جواب دہندگان کا خیال ہے کہ سی پی سی مغربی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ملک کے مجموعی اور طویل مدتی مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتی ہے۔ کینیا، نائجیریا، گھانا، انڈونیشیا اور پاکستان میں نصف سے زیادہ افراد نے اس رائے سے اتفاق کیا۔1935 میں ہونے والی زون ای میٹنگ نے سی پی سی کو عملی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور خود اصلاحی کا راستہ اختیار کرنے میں مدد دی۔ سروے کے مطابق، گلوبل ساؤتھ کے 63.7 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ سی پی سی کا طرزِ حکمرانی مغربی سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ کینیا، پاکستان، بھارت، نائجیریا، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا میں یہ شرح 70 فیصد سے زیادہ رہی۔سروے میں شامل دنیا بھر کے 63.9 فیصد افراد نے چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سی پی سی کی قیادت سے جوڑا، جبکہ گلوبل ساؤتھ میں یہ شرح 71.4 فیصد تھی۔ مضبوط، دوراندیش اور مؤثر قیادت سی پی سی کے بارے میں نمایاں تاثرات میں شامل رہی۔لانگ مارچ کا تاریخی تجربہ عزم، استقامت، عملی قیادت اور اجتماعی مقصد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جسے چین کی بعد کی ترقی کی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ Read More »

سائنس اور ٹیکنالوجی پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں، چینی نائب وزیراعظمبیجنگ () چین کے نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ نے بیجنگ میں 2026 بین الاقوامی سائنس کونسل کے وسط مدتی رکن اجلاس اور بیجنگ سائنس ڈائیلاگ میں شریک غیر ملکی مہمانوں سے ملاقات کی۔بدھ کے روز ڈنگ شوئے شیانگ نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں، جبکہ کھلا پن اور تعاون سائنسی و تکنیکی جدت طرازی کے لیے ناگزیر انتخاب ہیں۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر سائنس کے بنیادی مقاصد پر قائم رہنے اور سائنسی جذبے کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے پن اور شمولیت کے ذریعے بین الاقوامی علمی تبادلوں کو آسان بنایا جائے، مشترکہ کوششوں سے جدید سائنسی و تکنیکی شعبوں کے اہم مسائل حل کیے جائیں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے ذریعے سائنسی و تکنیکی کامیابیوں کے ثمرات سب تک پہنچائے جائیں، تاکہ عالمی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو مشترکہ طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔

Date .21/Oct/2026

سائنس اور ٹیکنالوجی پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں، چینی نائب وزیراعظمبیجنگ () چین کے نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ نے بیجنگ میں 2026 بین الاقوامی سائنس کونسل کے وسط مدتی رکن اجلاس اور بیجنگ سائنس ڈائیلاگ میں شریک غیر ملکی مہمانوں سے ملاقات کی۔بدھ کے روز ڈنگ شوئے شیانگ نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں، جبکہ کھلا پن اور تعاون سائنسی و تکنیکی جدت طرازی کے لیے ناگزیر انتخاب ہیں۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر سائنس کے بنیادی مقاصد پر قائم رہنے اور سائنسی جذبے کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے پن اور شمولیت کے ذریعے بین الاقوامی علمی تبادلوں کو آسان بنایا جائے، مشترکہ کوششوں سے جدید سائنسی و تکنیکی شعبوں کے اہم مسائل حل کیے جائیں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے ذریعے سائنسی و تکنیکی کامیابیوں کے ثمرات سب تک پہنچائے جائیں، تاکہ عالمی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو مشترکہ طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔ Read More »

چین۔روس جامع شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، چینی وزیراعظمبیجنگ ()چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین کے ہمراہ چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس نے مل کر آگے بڑھتے ہوئے اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے متحرک اور مضبوط تعاون کے ذریعے بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع تر اور پیش رفت زیادہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت نئے عہد میں چین۔روس جامع تزویراتی شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے اور تیز رفتار ترقی کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، روس کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فائدہ مند تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کی ترقی اور قومی نشاۃِ ثانیہ میں مدد ملے اور عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ رواں سال روس۔چین اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ ہے۔ نئے عہد میں روس۔چین جامع تزویراتی شراکت داری تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی عوامل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات کے حصول اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے” چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اقتصادی و تجارتی امور، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔

Date. 21/Oct/2026

چین۔روس جامع شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، چینی وزیراعظمبیجنگ ()چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین کے ہمراہ چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس نے مل کر آگے بڑھتے ہوئے اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے متحرک اور مضبوط تعاون کے ذریعے بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع تر اور پیش رفت زیادہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت نئے عہد میں چین۔روس جامع تزویراتی شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے اور تیز رفتار ترقی کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، روس کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فائدہ مند تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کی ترقی اور قومی نشاۃِ ثانیہ میں مدد ملے اور عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ رواں سال روس۔چین اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ ہے۔ نئے عہد میں روس۔چین جامع تزویراتی شراکت داری تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی عوامل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات کے حصول اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے” چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اقتصادی و تجارتی امور، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔ Read More »

اس تصویر میں نمبر 8 کو کتنی بار استعمال کیا گیا ہے؟

اوپر موجود تصویر کو دیکھیں اور بتائیں اس میں نمبر 8 کتنی بار استعمال کیا گیا ہے؟ سننے میں تو یہ آسان سوال لگتا ہے مگر اسکرین پر 8 نمبر کی تعداد سر چکرا دینے والی ہے۔ اس تصویر نے ہزاروں انٹرنیٹ صارفین کے ذہنوں کو گھما کر کر رکھ دیا۔ اس تصویر کو کچھ

اس تصویر میں نمبر 8 کو کتنی بار استعمال کیا گیا ہے؟ Read More »

سعودی شہزادی مشاعل بنت سعود انتقال کرگئیں

ریاض: سعودی شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کرگئیں۔ سعودی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی ایوان شاہی کی جانب سے شہزادی کے انتقال کی خبر جاری کی گئی۔ سعودی ایوان شاہی کے مطابق شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ بدھ کو بعد نماز عصر جامع مسجد امام

سعودی شہزادی مشاعل بنت سعود انتقال کرگئیں Read More »

کاپ 17 کے ” حیاتیاتی تنوع پر کنونشن” کے اجلاس میں”چائنا کارنر ” کا باضابطہ افتتاح

یریوان () آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں کاپ 17 کا ” حیاتیاتی تنوع پر کنونشن” کا اجلاس منعقد ہوا۔ اسی روز اجلاس میں”چائنا کارنر ” کا باضابطہ افتتاح ہوا۔ یہ اقوام متحدہ کی حیاتیاتی تنوع کانفرنس میں مسلسل تیسرا”چائنا کارنر “ہے۔ چین کے وزیر برائے حیاتیات و ماحولیات حوانگ رن چھؤ نے کانفرنس کی افتتاحی

کاپ 17 کے ” حیاتیاتی تنوع پر کنونشن” کے اجلاس میں”چائنا کارنر ” کا باضابطہ افتتاح Read More »

چین کی جانب سے فیڈرل پروکیورمنٹ سے چینی کمپنیوں کے اخراج کے امریکی احکامات کی سخت مخالفت

بیجنگ () امریکی وزارت برائے ہوم لینڈ سکیورٹی نے امریکی وفاقی حکومت کی سویلین انتظامی ایجنسیوں پر چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک اور اس سے ملحقہ اداروں کی تیار کردہ مصنوعات اور خدمات کی خریداری پر پابندی کا اعلان کیا، اور متعلقہ اداروں کے انفارمیشن سسٹم سے ایسی مصنوعات اور خدمات کو ہٹانے کا

چین کی جانب سے فیڈرل پروکیورمنٹ سے چینی کمپنیوں کے اخراج کے امریکی احکامات کی سخت مخالفت Read More »

چینی وزیر اعظم چین رو س وزرائے اعظم کی اکتیسویں ملاقات میں شرکت کے لئے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے

سینٹ پیٹرزبرگ () چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ روس کے وزیر اعظم میخائل میشوستین کی دعوت پر سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکووو انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچے ۔روس کے نائب وزیر اعظم اور روس میں چینی سفیر نے ان کا استقبال کیا ۔وہ چین رو س وزرائے اعظم کی اکتیسویں ملاقات میں شرکت کریں گے۔ لی

چینی وزیر اعظم چین رو س وزرائے اعظم کی اکتیسویں ملاقات میں شرکت کے لئے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے Read More »

Scroll to Top