News

چین جبوتی تعلقات کی مستحکم ترقی کا رجحان برقرار رہا ہے، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور جبوتی کے وزیر خارجہ عبدلقادر حسین عمرکے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی۔جمعرات کے روز اس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین جبوتی تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کا رجحان برقرار رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے افریقہ کے اہم مسائل کے حل میں تمام فریقوں کی تعمیری شرکت کےلئے چار اصول اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے متعدد انیشی ایٹوز پیش کیے ہیں، جس سے ایک بڑی طاقت کے طور پر چین کی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے جبوتی سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ عبدالقادر حسین عمر نے کہا کہ جبوتی کا ایک چین کے اصول پر قائم رہنااس کا مستقل موقف ہے، اور ان کا ملک صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ متعدد انیشی ایٹوزاور پائیدار عالمی امن کے فروغ کے لیے چین کی خدمات کوخراج تحسین پیش کرتا ہے۔

Date . 22/Oct/2026

چین جبوتی تعلقات کی مستحکم ترقی کا رجحان برقرار رہا ہے، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور جبوتی کے وزیر خارجہ عبدلقادر حسین عمرکے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی۔جمعرات کے روز اس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین جبوتی تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کا رجحان برقرار رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے افریقہ کے اہم مسائل کے حل میں تمام فریقوں کی تعمیری شرکت کےلئے چار اصول اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے متعدد انیشی ایٹوز پیش کیے ہیں، جس سے ایک بڑی طاقت کے طور پر چین کی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے جبوتی سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ عبدالقادر حسین عمر نے کہا کہ جبوتی کا ایک چین کے اصول پر قائم رہنااس کا مستقل موقف ہے، اور ان کا ملک صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ متعدد انیشی ایٹوزاور پائیدار عالمی امن کے فروغ کے لیے چین کی خدمات کوخراج تحسین پیش کرتا ہے۔ Read More »

پارٹی کی مضبوط تعمیر، چین کا سب سے بڑا اہم کام ہے، چینی میڈیابیجنگ () 26 تا 29 اکتوبر 2026 کو، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کا پانچواں کل رکنی اجلاس بیجنگ میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس کا موضوع صرف ایک ہی نکتہ پر مرکوز ہوگا: ” پارٹی کو مسلسل اور مستقل طور پر سخت نظم و ضبط کا پابند بنانے اور اس پر جامع انداز میں عمل درآمد سے متعلق اہم امور کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے متعلقہ فیصلے کی دستاویز کی منظوری دینا ۔ حکمران جماعت کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کے ایک اجلاس میں تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز کرنا کہ ’’اپنی اصلاح اور نگرانی کیسے کی جائے‘‘، بہت سے ممالک کے سیاسی مبصرین کے لیے شاید حیران کن ہو، لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے یہ ایک بالکل فطری انتخاب ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ میں اکثر دہرائے جانے والے ایک جملے میں اس سوچ کا خلاصہ یوں کیا جاتا ہے:”ملک کو چلانے کے لیے پہلے پارٹی کو درست رکھنا ضروری ہے، اور پارٹی مضبوط ہوگی تو ملک بھی طاقتور ہوگا۔”1945ء میں ایک جمہوریت پسند شخصیت نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بانی رہنماؤں میں شامل ماؤ زے تنگ سے ایک اہم سوال کیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ چین کی تاریخ میں یکے بعد دیگرے آنے والے شاہی خاندان “جس طرح تیزی سے عروج پر پہنچتے تھے، اسی طرح زوال کا شکار بھی اچانک ہو جاتے تھے”اور وہ اس تاریخی چکر سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کیا کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اس تاریخی چکر سے بچ سکتی ہے؟ ماؤ زے تنگ نے جواب دیا کہ ہاں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ “عوام حکومت کی نگرانی کریں”۔ اس سوال کے اٹھائے جانے کے 80 سال سے زیادہ عرصے بعد آج بیجنگ میں اس کا ایک نیا اور دورِ حاضر سے ہم آہنگ جواب سامنے آیا ہے۔ شی جن پھنگ کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے نے پارٹی کی جامع قیادت، خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے عمل، نیز عوام کو مرکزیت دینے جیسے نئے اور بنیادی تصورات کے ذریعے مارکسزم کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے کو منظم انداز میں ترقی دی ہے اور سوشلسٹ سیاسی تہذیب کی ترقی کے لیے ایک نیا معیار متعین کیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس میں”پارٹی کو مسلسل اور مستقل طور پر سخت نظم و ضبط کا پابند بنانے اور اس پر جامع انداز میں عمل درآمد” کو مرکزی موضوع قرار دینا ایک ایسے پیغام کی عکاسی کرتا ہے جس کا مفہوم محض الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ چین اپنی ترقی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے حکمران جماعت کی اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح پر ذرہ برابر بھی غفلت نہیں برتتا۔بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس کے ایجنڈے کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ “کل رکنی اجلاس”کیا ہوتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے اور عموماً اس عرصے میں سات کل رکنی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں پارٹی اور ملک کے اہم ترقیاتی امور پر بحث اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بیسویں مرکزی کمیٹی کے پہلے اجلاس سے لے کر پانچویں اجلاس تک کے سفر پر نظر ڈالیں تو ایک واضح تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ پہلے اجلاس میں قیادت کی تشکیل اور مرکزی اداروں کے انتخاب کا مرحلہ مکمل ہوا۔ دوسرے اجلاس میں اہم تقرریوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں سے متعلق امور طے کیے گئے، جس سے ادارہ جاتی اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ تیسرے اجلاس میں اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر توجہ دی گئی اور چینی طرز کی جدیدکاری کو آگے بڑھانے کے لیے جامع اصلاحات سے متعلق فیصلے منظور کیے گئے۔ چوتھے اجلاس میں پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے لیے ترقیاتی سمت متعین کی گئی، جبکہ اب ہونے والے پانچویں اجلاس میں پارٹی کی تنظیمی تعمیر اور جامع سخت نظم و ضبط کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان پانچوں اجلاسوں کے درمیان ایک مربوط تعلق موجود ہے، جس کے پیچھے ایک سادہ مگر بنیادی اصول کارفرما ہے اور وہ یہ کہ بہترین منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بھی مضبوط اور مؤثر قیادت ضروری ہے، اور قیادت کی اپنی صلاحیت اور کردار کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے۔ یہی چینی کہاوت “لوہا پیٹنے کے لیے خود مضبوط ہونا ضروری ہے” کا مفہوم ہے یعنی کامیابی کے لیے خود کو تیار اور مضبوط ہونا پڑتا ہے ۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ “پارٹی نے خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے ذریعے نظم و ضبط اور عروج و زوال کے تاریخی چکر سے نکلنے کا دوسرا جواب تلاش کر لیا ہے۔” اس سے پہلے ماؤ زے تنگ نے پہلا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ”عوام حکومت کی نگرانی کریں”۔ نئے دور میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے جامع اور سخت نظم و ضبط کے عملی اقدامات کے ذریعے دوسرا جواب پیش کیا ہے، اور وہ ہے پارٹی کی مسلسل خود احتسابی اور اپنی اصلاح ۔ خود احتسابی اور اپنی اصلاح سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب پارٹی کو اندرونی طور پر مضبوط بنانا، اس کی کمزوریوں کو دور کرنا، خامیوں اور خرابیوں کا خاتمہ کرنا اور اپنی اصلاح کے لیے خود اپنے خلاف سخت اقدامات کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ “خود احتسابی اور اپنی اصلاح” کو تاریخی عروج و زوال کے چکر سے نکلنے کی ایک تزویراتی حکمت عملی قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا صرف بیرونی نگرانی پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی صفوں کو مسلسل صاف کرنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم رہتی ہے۔ یہ نہ صرف مارکسزم کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے میں ایک اہم جدت ہے بلکہ اس عالمی سوال کا جواب بھی ہے کہ ایک سو سال سے زیادہ پرانی جماعت طویل عرصے تک اپنی تازگی اور فعالیت کیسے برقرار رکھ سکتی ہے۔چین میں پارٹی کے نظم و ضبط کو سخت بنانے اور معاشی و سماجی ترقی کے عمل کو ایک دوسرے کے متضاد نہیں سمجھا جاتا، بلکہ انہیں ایک دوسرے کو تقویت دینے والے عوامل قرار دیا جاتا ہے۔ بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی سے کاروبار کے لیے منصفانہ ماحول اور سیاسی نظام میں شفافیت پیدا ہوتی ہے، جبکہ طرزِ عمل کی اصلاح سے کروڑوں عوام کا اعتماد اور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ یہی اعتماد اصلاحات پر عمل درآمد کی بنیاد اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کی قوت بنتا ہے۔ اس طرح پارٹی پر سخت نظم و ضبط کا نفاذ اور اس کی مسلسل اصلاح ترقی کے لیے ایک مضبوط سہارا فراہم کرتے ہیں۔ مختلف ممالک کے مبصرین کے لیے اس تصور کو سمجھنے کی کلید یہ ہے کہ جہاں مغربی ممالک میں طاقت کے استعمال کو محدود رکھنے کے لیے زیادہ تر بیرونی ادارہ جاتی توازن اور اختیارات کی باہمی نگرانی پر انحصار کیا جاتا ہے، وہیں چین نے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی حکمران جماعت کی مسلسل داخلی تطہیر اور اپنی اصلاح کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کی توجہ زیادہ تر اندرونی اصلاح پر مرکوز ہے اور جو خود احتسابی کے لیے زیادہ شعوری عزم اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔قیادت کی تشکیل سے لے کر پارٹی کی تنظیمی تعمیر تک، اور ترقیاتی منصوبوں کے تعین سے لے کر اپنی ذات کو مضبوط بنانے تک، چین کے سیاسی نظام کی حکمت عملی کا تسلسل واضح ہے۔ اصلاحات اور منصوبہ بندی مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں، مضبوط اور مؤثر حکمران جماعت ان پر عمل درآمد کی ضمانت فراہم کرتی ہے، جبکہ پارٹی کی اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح اس پورے عمل کی بنیاد ہے۔ جب پانچویں کل رکنی اجلاس میں جامع سخت نظم و ضبط کو مزید گہرائی تک لے جانے پر توجہ دی جائے گی تو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا دنیا کے سامنے محض ایک انتظامی یا ادارہ جاتی طریقہ کار پیش نہیں کرے گی، بلکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہتے ہوئے خود کو بہتر بنانے اور اپنی اصلاح جاری رکھنے کے سیاسی عزم کا اظہار بھی کرے گی۔ خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے ذریعے سماجی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانا، چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ کے حصول کے لیے اجتماعی قوت کو یکجا کرنا اور اس مقصد کے لیے بنیادی سیاسی ضمانت فراہم کرنا، چین کی سیاسی حکمت عملی کے اسی بنیادی تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے اپنے قیام کے دن سے ہی چینی قوم کی ایک صدی پر محیط پستی کے خاتمے اور ایک آزاد و خودمختار عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا تاریخی مشن اپنے ذمے لیا تھا۔ آج سوشلسٹ جدیدکاری پر مبنی ملک کی جامع تعمیر کے نئے سفر میں یہ مشن ایک نئی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد چینی عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ترقی، خوشحالی اور قومی نشاۃِ ثانیہ کے حصول کے لیے آگے بڑھانا ہے۔ بنیادی طور پر پارٹی کے نظم و ضبط کو سخت بنانے کا مقصد چین کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر ایک سو سال سے زیادہ قدیم حکمران جماعت اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، اور یہی تاریخ اور عوام کے سامنے اس کا سنجیدہ ترین جواب بھی ہے۔

Date . 22/Oct/2026

پارٹی کی مضبوط تعمیر، چین کا سب سے بڑا اہم کام ہے، چینی میڈیابیجنگ () 26 تا 29 اکتوبر 2026 کو، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کا پانچواں کل رکنی اجلاس بیجنگ میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس کا موضوع صرف ایک ہی نکتہ پر مرکوز ہوگا: ” پارٹی کو مسلسل اور مستقل طور پر سخت نظم و ضبط کا پابند بنانے اور اس پر جامع انداز میں عمل درآمد سے متعلق اہم امور کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے متعلقہ فیصلے کی دستاویز کی منظوری دینا ۔ حکمران جماعت کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کے ایک اجلاس میں تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز کرنا کہ ’’اپنی اصلاح اور نگرانی کیسے کی جائے‘‘، بہت سے ممالک کے سیاسی مبصرین کے لیے شاید حیران کن ہو، لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے یہ ایک بالکل فطری انتخاب ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ میں اکثر دہرائے جانے والے ایک جملے میں اس سوچ کا خلاصہ یوں کیا جاتا ہے:”ملک کو چلانے کے لیے پہلے پارٹی کو درست رکھنا ضروری ہے، اور پارٹی مضبوط ہوگی تو ملک بھی طاقتور ہوگا۔”1945ء میں ایک جمہوریت پسند شخصیت نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بانی رہنماؤں میں شامل ماؤ زے تنگ سے ایک اہم سوال کیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ چین کی تاریخ میں یکے بعد دیگرے آنے والے شاہی خاندان “جس طرح تیزی سے عروج پر پہنچتے تھے، اسی طرح زوال کا شکار بھی اچانک ہو جاتے تھے”اور وہ اس تاریخی چکر سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کیا کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اس تاریخی چکر سے بچ سکتی ہے؟ ماؤ زے تنگ نے جواب دیا کہ ہاں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ “عوام حکومت کی نگرانی کریں”۔ اس سوال کے اٹھائے جانے کے 80 سال سے زیادہ عرصے بعد آج بیجنگ میں اس کا ایک نیا اور دورِ حاضر سے ہم آہنگ جواب سامنے آیا ہے۔ شی جن پھنگ کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے نے پارٹی کی جامع قیادت، خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے عمل، نیز عوام کو مرکزیت دینے جیسے نئے اور بنیادی تصورات کے ذریعے مارکسزم کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے کو منظم انداز میں ترقی دی ہے اور سوشلسٹ سیاسی تہذیب کی ترقی کے لیے ایک نیا معیار متعین کیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس میں”پارٹی کو مسلسل اور مستقل طور پر سخت نظم و ضبط کا پابند بنانے اور اس پر جامع انداز میں عمل درآمد” کو مرکزی موضوع قرار دینا ایک ایسے پیغام کی عکاسی کرتا ہے جس کا مفہوم محض الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ چین اپنی ترقی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے حکمران جماعت کی اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح پر ذرہ برابر بھی غفلت نہیں برتتا۔بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس کے ایجنڈے کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ “کل رکنی اجلاس”کیا ہوتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے اور عموماً اس عرصے میں سات کل رکنی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں پارٹی اور ملک کے اہم ترقیاتی امور پر بحث اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بیسویں مرکزی کمیٹی کے پہلے اجلاس سے لے کر پانچویں اجلاس تک کے سفر پر نظر ڈالیں تو ایک واضح تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ پہلے اجلاس میں قیادت کی تشکیل اور مرکزی اداروں کے انتخاب کا مرحلہ مکمل ہوا۔ دوسرے اجلاس میں اہم تقرریوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں سے متعلق امور طے کیے گئے، جس سے ادارہ جاتی اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ تیسرے اجلاس میں اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر توجہ دی گئی اور چینی طرز کی جدیدکاری کو آگے بڑھانے کے لیے جامع اصلاحات سے متعلق فیصلے منظور کیے گئے۔ چوتھے اجلاس میں پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے لیے ترقیاتی سمت متعین کی گئی، جبکہ اب ہونے والے پانچویں اجلاس میں پارٹی کی تنظیمی تعمیر اور جامع سخت نظم و ضبط کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان پانچوں اجلاسوں کے درمیان ایک مربوط تعلق موجود ہے، جس کے پیچھے ایک سادہ مگر بنیادی اصول کارفرما ہے اور وہ یہ کہ بہترین منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بھی مضبوط اور مؤثر قیادت ضروری ہے، اور قیادت کی اپنی صلاحیت اور کردار کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے۔ یہی چینی کہاوت “لوہا پیٹنے کے لیے خود مضبوط ہونا ضروری ہے” کا مفہوم ہے یعنی کامیابی کے لیے خود کو تیار اور مضبوط ہونا پڑتا ہے ۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ “پارٹی نے خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے ذریعے نظم و ضبط اور عروج و زوال کے تاریخی چکر سے نکلنے کا دوسرا جواب تلاش کر لیا ہے۔” اس سے پہلے ماؤ زے تنگ نے پہلا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ”عوام حکومت کی نگرانی کریں”۔ نئے دور میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے جامع اور سخت نظم و ضبط کے عملی اقدامات کے ذریعے دوسرا جواب پیش کیا ہے، اور وہ ہے پارٹی کی مسلسل خود احتسابی اور اپنی اصلاح ۔ خود احتسابی اور اپنی اصلاح سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب پارٹی کو اندرونی طور پر مضبوط بنانا، اس کی کمزوریوں کو دور کرنا، خامیوں اور خرابیوں کا خاتمہ کرنا اور اپنی اصلاح کے لیے خود اپنے خلاف سخت اقدامات کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ “خود احتسابی اور اپنی اصلاح” کو تاریخی عروج و زوال کے چکر سے نکلنے کی ایک تزویراتی حکمت عملی قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا صرف بیرونی نگرانی پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی صفوں کو مسلسل صاف کرنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم رہتی ہے۔ یہ نہ صرف مارکسزم کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے میں ایک اہم جدت ہے بلکہ اس عالمی سوال کا جواب بھی ہے کہ ایک سو سال سے زیادہ پرانی جماعت طویل عرصے تک اپنی تازگی اور فعالیت کیسے برقرار رکھ سکتی ہے۔چین میں پارٹی کے نظم و ضبط کو سخت بنانے اور معاشی و سماجی ترقی کے عمل کو ایک دوسرے کے متضاد نہیں سمجھا جاتا، بلکہ انہیں ایک دوسرے کو تقویت دینے والے عوامل قرار دیا جاتا ہے۔ بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی سے کاروبار کے لیے منصفانہ ماحول اور سیاسی نظام میں شفافیت پیدا ہوتی ہے، جبکہ طرزِ عمل کی اصلاح سے کروڑوں عوام کا اعتماد اور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ یہی اعتماد اصلاحات پر عمل درآمد کی بنیاد اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کی قوت بنتا ہے۔ اس طرح پارٹی پر سخت نظم و ضبط کا نفاذ اور اس کی مسلسل اصلاح ترقی کے لیے ایک مضبوط سہارا فراہم کرتے ہیں۔ مختلف ممالک کے مبصرین کے لیے اس تصور کو سمجھنے کی کلید یہ ہے کہ جہاں مغربی ممالک میں طاقت کے استعمال کو محدود رکھنے کے لیے زیادہ تر بیرونی ادارہ جاتی توازن اور اختیارات کی باہمی نگرانی پر انحصار کیا جاتا ہے، وہیں چین نے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی حکمران جماعت کی مسلسل داخلی تطہیر اور اپنی اصلاح کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کی توجہ زیادہ تر اندرونی اصلاح پر مرکوز ہے اور جو خود احتسابی کے لیے زیادہ شعوری عزم اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔قیادت کی تشکیل سے لے کر پارٹی کی تنظیمی تعمیر تک، اور ترقیاتی منصوبوں کے تعین سے لے کر اپنی ذات کو مضبوط بنانے تک، چین کے سیاسی نظام کی حکمت عملی کا تسلسل واضح ہے۔ اصلاحات اور منصوبہ بندی مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں، مضبوط اور مؤثر حکمران جماعت ان پر عمل درآمد کی ضمانت فراہم کرتی ہے، جبکہ پارٹی کی اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح اس پورے عمل کی بنیاد ہے۔ جب پانچویں کل رکنی اجلاس میں جامع سخت نظم و ضبط کو مزید گہرائی تک لے جانے پر توجہ دی جائے گی تو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا دنیا کے سامنے محض ایک انتظامی یا ادارہ جاتی طریقہ کار پیش نہیں کرے گی، بلکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہتے ہوئے خود کو بہتر بنانے اور اپنی اصلاح جاری رکھنے کے سیاسی عزم کا اظہار بھی کرے گی۔ خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے ذریعے سماجی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانا، چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ کے حصول کے لیے اجتماعی قوت کو یکجا کرنا اور اس مقصد کے لیے بنیادی سیاسی ضمانت فراہم کرنا، چین کی سیاسی حکمت عملی کے اسی بنیادی تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے اپنے قیام کے دن سے ہی چینی قوم کی ایک صدی پر محیط پستی کے خاتمے اور ایک آزاد و خودمختار عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا تاریخی مشن اپنے ذمے لیا تھا۔ آج سوشلسٹ جدیدکاری پر مبنی ملک کی جامع تعمیر کے نئے سفر میں یہ مشن ایک نئی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد چینی عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ترقی، خوشحالی اور قومی نشاۃِ ثانیہ کے حصول کے لیے آگے بڑھانا ہے۔ بنیادی طور پر پارٹی کے نظم و ضبط کو سخت بنانے کا مقصد چین کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر ایک سو سال سے زیادہ قدیم حکمران جماعت اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، اور یہی تاریخ اور عوام کے سامنے اس کا سنجیدہ ترین جواب بھی ہے۔ Read More »

“چین کی سیر، متحرک ہائی نان” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی کا آغازبیجنگ () چائنا میڈیا گروپ کے ایشیا و افریقہ مرکز اور سی ایم جی ہائی نان بیورو کے اشتراک سے “چین کی سیر، متحرک ہائی نان 2026” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی سانیا میں شروع ہوئی۔اس سرگرمی کا مرکزی موضوع “آزاد تجارتی بندرگاہ میں دیہی احیا” ہے۔ اس میں آسیان کے آٹھ ممالک، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام کے 11 ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی شریک ہیں۔ صحافی ہائی نان آزاد تجارتی بندرگاہ کی تعمیر اور دیہی احیا کے باہمی فروغ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے، تاکہ ہائی نان کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے نتائج کو دنیا کے سامنے جامع انداز میں پیش کیا جا سکے اور چین۔آسیان باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون کی کہانیاں اجاگر کی جا سکیں۔

Date . 22/Oct/2026

“چین کی سیر، متحرک ہائی نان” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی کا آغازبیجنگ () چائنا میڈیا گروپ کے ایشیا و افریقہ مرکز اور سی ایم جی ہائی نان بیورو کے اشتراک سے “چین کی سیر، متحرک ہائی نان 2026” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی سانیا میں شروع ہوئی۔اس سرگرمی کا مرکزی موضوع “آزاد تجارتی بندرگاہ میں دیہی احیا” ہے۔ اس میں آسیان کے آٹھ ممالک، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام کے 11 ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی شریک ہیں۔ صحافی ہائی نان آزاد تجارتی بندرگاہ کی تعمیر اور دیہی احیا کے باہمی فروغ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے، تاکہ ہائی نان کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے نتائج کو دنیا کے سامنے جامع انداز میں پیش کیا جا سکے اور چین۔آسیان باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون کی کہانیاں اجاگر کی جا سکیں۔ Read More »

چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () پوڈ گو ریکا میں مونٹینیگرو کے وزیر اعظم میلوئیکو اسپائیچ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی ۔اسپائیچ نے کہا کہ مونٹینیگرو ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین کے دنیا میں کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، مونٹینیگرو جیسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کرنے پر چین کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ ترقی کے راستے پر مونٹینیگرو کا سب سے اہم پارٹنر رہا ہےاور ا ن کے ملک میں چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مونٹینیگرو چین-یورپی تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے نئے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں۔ چین مونٹینیگرو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی سطح کو بلند کرنے ، مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مسلسل گہرا کرنے، اور ایک دوسرے کا طویل مدتی، قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر بننے کے لیے تیار ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین مونٹینیگرو کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو سمجھتا ہے اور یہ کوشش چین کے ساتھ اس کے تعلقات کے متصاد م نہیں ۔ چین مونٹینیگرو سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین-یورپ تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے نئی تحریک فراہم کرے گا ۔

Date . 22/Oct/2026

چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () پوڈ گو ریکا میں مونٹینیگرو کے وزیر اعظم میلوئیکو اسپائیچ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی ۔اسپائیچ نے کہا کہ مونٹینیگرو ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین کے دنیا میں کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، مونٹینیگرو جیسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کرنے پر چین کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ ترقی کے راستے پر مونٹینیگرو کا سب سے اہم پارٹنر رہا ہےاور ا ن کے ملک میں چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مونٹینیگرو چین-یورپی تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے نئے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں۔ چین مونٹینیگرو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی سطح کو بلند کرنے ، مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مسلسل گہرا کرنے، اور ایک دوسرے کا طویل مدتی، قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر بننے کے لیے تیار ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین مونٹینیگرو کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو سمجھتا ہے اور یہ کوشش چین کے ساتھ اس کے تعلقات کے متصاد م نہیں ۔ چین مونٹینیگرو سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین-یورپ تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے نئی تحریک فراہم کرے گا ۔ Read More »

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

Date . 22/Oct/2026

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ Read More »

چینی مزدوروں اور کسانوں کی ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کی فتح کے 90 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایوننگ گالا “اوڈ ٹو دی لانگ مارچ” 22 اکتوبر کو نشر ہو گا بیجنگ () چینی مزدوروں اور کسانوں کی ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کی فتح کے 90 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک ایوننگ گالا “اوڈ ٹو دی لانگ مارچ” بیجنگ وقت کے مطابق 22 اکتوبر کی رات 8 بجے چائنا میڈیا گروپ کے سی سی ٹی وی ون، تفریحی چینل، دفاعی اور فوجی چینل سمیت ٹی وی چینلز پر، اور CCTV.com سمیت دیگر نیو میڈیا پلیٹ فارمز پرنشر کیا جائےگا۔ اس گالا کا موضوع “لانگ مارچ کے عظیم جذبے کو فروغ دینا اور نئے دور میں لانگ مارچ پر گامزن ہونا” ہے۔ اس گالا میں “جدو جہد کا راستہ “،”فیصلہ کن موڑ کا راستہ”، “دلوں کو جوڑنے کا راستہ”، “قین کا راستہ” اور “فتح کا راستہ” کے عنوانات پر مشتمل پانچ حصوں کے ذریعے ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کے کٹھن اور غیر معمولی تاریخی سفر کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا اور ساتھ ہی اس عہد کے اس پُرعزم پیغام کو بھی اجاگر کیا جائے گا کہ “نیا سفر دراصل ایک نیا لانگ مارچ ہے” ۔

Date . 22/Oct/2026

چینی مزدوروں اور کسانوں کی ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کی فتح کے 90 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایوننگ گالا “اوڈ ٹو دی لانگ مارچ” 22 اکتوبر کو نشر ہو گا بیجنگ () چینی مزدوروں اور کسانوں کی ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کی فتح کے 90 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک ایوننگ گالا “اوڈ ٹو دی لانگ مارچ” بیجنگ وقت کے مطابق 22 اکتوبر کی رات 8 بجے چائنا میڈیا گروپ کے سی سی ٹی وی ون، تفریحی چینل، دفاعی اور فوجی چینل سمیت ٹی وی چینلز پر، اور CCTV.com سمیت دیگر نیو میڈیا پلیٹ فارمز پرنشر کیا جائےگا۔ اس گالا کا موضوع “لانگ مارچ کے عظیم جذبے کو فروغ دینا اور نئے دور میں لانگ مارچ پر گامزن ہونا” ہے۔ اس گالا میں “جدو جہد کا راستہ “،”فیصلہ کن موڑ کا راستہ”، “دلوں کو جوڑنے کا راستہ”، “قین کا راستہ” اور “فتح کا راستہ” کے عنوانات پر مشتمل پانچ حصوں کے ذریعے ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کے کٹھن اور غیر معمولی تاریخی سفر کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا اور ساتھ ہی اس عہد کے اس پُرعزم پیغام کو بھی اجاگر کیا جائے گا کہ “نیا سفر دراصل ایک نیا لانگ مارچ ہے” ۔ Read More »

مالدیپ کے صدر کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر گفتگو

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو

مالدیپ کے صدر کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر گفتگو Read More »

پی ٹی آئی کیلئے محدود ہوتے سیاسی میدان کے ذمہ دار پارٹی کے سخت گیر عناصر قرار

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) میں موجود سنجیدہ اور نسبتاً حقیقت پسند سیاسی رہنما سمجھی جانے والی شخصیات پر مشتمل حلقہ سمجھتا ہے کہ اگر پارٹی نے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے زیادہ لچک دار سیاسی حکمتِ عملی اختیار کی ہوتی تو اس کیلئے تیزی سے محدود اور سکڑتے

پی ٹی آئی کیلئے محدود ہوتے سیاسی میدان کے ذمہ دار پارٹی کے سخت گیر عناصر قرار Read More »

پاکستان، ترکیے،قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے

پاکستان، ترکیے،قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے۔ ترک وزارت دفاع کے مطابق ترکیےکے وزیرِ قومی دفاع ‘یاشار گولر’ کے دورہ قطر کے دوران ترکیے، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ‘بدر مفاہمتی یادداشت’ (Badr Memorandum of Understanding) پر دستخط کیے

پاکستان، ترکیے،قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے Read More »

عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا پہلا سرکاری دورہ، شاہ چارلس نے حدیث پڑھ کر سنائی

برطانیہ کے شاہ چارلس نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے سرکاری دورے پر خیر مقدم کیا۔  برطانیہ کے شاہ چارلس نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا استقبال کیا،  یہ عمان کے سلطان کا 44 سال بعد پہلا سرکاری ریاستی دورہ ہے۔ شاہ چارلس نے اپنے خطاب کے دوران صحیح مسلم کی

عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا پہلا سرکاری دورہ، شاہ چارلس نے حدیث پڑھ کر سنائی Read More »

Scroll to Top