News

سینٹرل سوشلزم انسٹی ٹیوٹ نے محبِ وطن متحدہ محاذ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، چینی صدر

بیجنگ ()چینی صدر شی جن پھنگ نے سینٹرل سوشلزم انسٹی ٹیوٹ کے70 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر مبارک باد پیش کی ہے۔منگل کے روز انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ گزشتہ 70 برسوں کے دوران سینٹرل سوشلزم انسٹی ٹیوٹ نے سی پی سی سے غیر وابستہ ایسی نمائندہ شخصیات کی ایک بڑی تعداد […]

سینٹرل سوشلزم انسٹی ٹیوٹ نے محبِ وطن متحدہ محاذ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، چینی صدر Read More »

جاپانی سیاست دانوں کی “یاسوکونی وار شرائن” پر حاضری مذموم عزائم کی عکاسی کرتی ہے، چینی میڈیا

ٹو کیو () جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے یاسوکونی شرائن پر حاضری کی فیس ادا کی۔ ساتھ ہی جاپانی کابینہ کے کئی عہدیداروں اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی یاسوکونی شرائن پر حاضری دی۔ ٹوکیو ٹرائلز کے 80 سال مکمل ہونے کے اس خصوصی موقع پر جاپانی سیاست دانوں کے

جاپانی سیاست دانوں کی “یاسوکونی وار شرائن” پر حاضری مذموم عزائم کی عکاسی کرتی ہے، چینی میڈیا Read More »

چین اور بلغاریہ کے درمیان ایک مضبوط سیاسی بنیاد ہے، چینی وزیر خارجہ

صوفیہ () بلغاریہ کی صدر الیانا یوتووا اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی۔منگل کے روز یوتووا نے کہا کہ بلغاریہ اور چین کے درمیان طویل عرصے سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور 2019 میں بلغاریہ چین تزویراتی شراکت داری بھی قائم کی گئی، جو مساوات اور باہمی مفادات کی بنیاد پر

چین اور بلغاریہ کے درمیان ایک مضبوط سیاسی بنیاد ہے، چینی وزیر خارجہ Read More »

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پیچیدہ ہے، چینی وزیر اعظم

اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے، لی چھیانگ دوشنبے () شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی کونسل کے پچیسیوں اجلاس کے موقع پر دوشنبے میں چینی وزیر اعظم لی چھیانگ اور ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف کے درمیان ملاقات ہوئی۔منگل کے روز لی چھیانگ

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پیچیدہ ہے، چینی وزیر اعظم Read More »

چین اور بیلاروس ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے مخلص دوست ہیں ، چینی وزیر اعظم

دوشنبے () چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی کونسل کے پچیسویں اجلاس کے موقع پر بیلاروس کے وزیر اعظم الیگزینڈر ٹرچن سے ملاقات کی۔منگل کے روزلی چھانگ نے کہا کہ چین اور بیلاروس ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے مخلص دوست ہیں جو

چین اور بیلاروس ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے مخلص دوست ہیں ، چینی وزیر اعظم Read More »

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

Date . 19/Oct/2026

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ Read More »

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

Date . 19/Oct/2026

چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم بیجنگ () چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ Read More »

چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () پوڈ گو ریکا میں مونٹینیگرو کے وزیر اعظم میلوئیکو اسپائیچ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی ۔اسپائیچ نے کہا کہ مونٹینیگرو ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین کے دنیا میں کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، مونٹینیگرو جیسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کرنے پر چین کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ ترقی کے راستے پر مونٹینیگرو کا سب سے اہم پارٹنر رہا ہےاور ا ن کے ملک میں چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مونٹینیگرو چین-یورپی تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے نئے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں۔ چین مونٹینیگرو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی سطح کو بلند کرنے ، مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مسلسل گہرا کرنے، اور ایک دوسرے کا طویل مدتی، قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر بننے کے لیے تیار ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین مونٹینیگرو کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو سمجھتا ہے اور یہ کوشش چین کے ساتھ اس کے تعلقات کے متصاد م نہیں ۔ چین مونٹینیگرو سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین-یورپ تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے نئی تحریک فراہم کرے گا ۔

Date . 19/Oct/2026

چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں، چینی وزیر خا رجہبیجنگ () پوڈ گو ریکا میں مونٹینیگرو کے وزیر اعظم میلوئیکو اسپائیچ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات ہوئی ۔اسپائیچ نے کہا کہ مونٹینیگرو ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین کے دنیا میں کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، مونٹینیگرو جیسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کرنے پر چین کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ ترقی کے راستے پر مونٹینیگرو کا سب سے اہم پارٹنر رہا ہےاور ا ن کے ملک میں چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مونٹینیگرو چین-یورپی تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کے نئے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور مونٹینیگرو ہمیشہ ترقی کے راستے پر اچھے دوست رہے ہیں۔ چین مونٹینیگرو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی سطح کو بلند کرنے ، مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مسلسل گہرا کرنے، اور ایک دوسرے کا طویل مدتی، قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر بننے کے لیے تیار ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین مونٹینیگرو کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو سمجھتا ہے اور یہ کوشش چین کے ساتھ اس کے تعلقات کے متصاد م نہیں ۔ چین مونٹینیگرو سے توقع رکھتا ہے کہ وہ چین-یورپ تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے نئی تحریک فراہم کرے گا ۔ Read More »

“چین کی سیر، متحرک ہائی نان” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی کا آغازبیجنگ () چائنا میڈیا گروپ کے ایشیا و افریقہ مرکز اور سی ایم جی ہائی نان بیورو کے اشتراک سے “چین کی سیر، متحرک ہائی نان 2026” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی سانیا میں شروع ہوئی۔اس سرگرمی کا مرکزی موضوع “آزاد تجارتی بندرگاہ میں دیہی احیا” ہے۔ اس میں آسیان کے آٹھ ممالک، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام کے 11 ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی شریک ہیں۔ صحافی ہائی نان آزاد تجارتی بندرگاہ کی تعمیر اور دیہی احیا کے باہمی فروغ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے، تاکہ ہائی نان کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے نتائج کو دنیا کے سامنے جامع انداز میں پیش کیا جا سکے اور چین۔آسیان باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون کی کہانیاں اجاگر کی جا سکیں۔

Date . 19/Oct/2026

“چین کی سیر، متحرک ہائی نان” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی کا آغازبیجنگ () چائنا میڈیا گروپ کے ایشیا و افریقہ مرکز اور سی ایم جی ہائی نان بیورو کے اشتراک سے “چین کی سیر، متحرک ہائی نان 2026” کے عنوان سے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ میڈیا سرگرمی سانیا میں شروع ہوئی۔اس سرگرمی کا مرکزی موضوع “آزاد تجارتی بندرگاہ میں دیہی احیا” ہے۔ اس میں آسیان کے آٹھ ممالک، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام کے 11 ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی شریک ہیں۔ صحافی ہائی نان آزاد تجارتی بندرگاہ کی تعمیر اور دیہی احیا کے باہمی فروغ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے، تاکہ ہائی نان کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے نتائج کو دنیا کے سامنے جامع انداز میں پیش کیا جا سکے اور چین۔آسیان باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون کی کہانیاں اجاگر کی جا سکیں۔ Read More »

Scroll to Top